طلبِ علم کی فضیلت اور معمارانِ قوم کی عظیم ذمہ داریاں
اسلام نے علم کو مومن کا گمشدہ سرمایہ قرار دیا ہے اور حصولِ علم کو ہر مسلمان مرد اور عورت پر اولین فریضہ ٹھہرایا ہے۔ دینِ اسلام کی پہلی وحی ہی "اقْرَأْ" (پڑھو) کے حکم سے شروع ہوئی، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ تاریکیوں کے خاتمے اور انسانیت کی معراج کا واحد راستہ علم و عرفان کی روشنی ہی ہے۔
حصولِ علم کی عظمت پر فرمانِ نبوی ﷺ
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طالبانِ علم کی قدر و منزلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ علم کے راستے پر چلنے والا دراصل جنت کے راستے پر گامزن ہوتا ہے۔
معلم اور متعلم کا باہمی اخلاص
علم کی حقیقی برکت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب طلبِ علم کا مقصد محض دنیاوی نمود و نمائش یا مفادات کا حصول نہ ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا، جہالت کا خاتمہ اور مخلوقِ خدا کی فلاح ہو۔ اساتذہ کرام اور معمارانِ قوم کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ میں کتابی معلومات کے ساتھ ساتھ خوفِ خدا، کردار کی پختگی اور سماجی خدمت کا جذبہ بھی بیدار کریں۔
کینز الہدایہ اکیڈمی اسی نظریہ کے تحت کام کر رہی ہے تاکہ ہماری نئی نسل روایتی دینی شعور کے ساتھ ساتھ جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر دنیا و آخرت میں کامیابی کا پرچم بلند کر سکے۔