تعلیم و تربیت
خاندانی نظام کی اہمیت اور بچوں کی اسلامی خطوط پر صالح تربیت
اسلام میں خاندانی اکائی کو معاشرے کی بنیادی اینٹ قرار دیا گیا ہے۔ ایک صالح اور باحیا خاندان ہی ایک صحت مند اور پرسکون معاشرے کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ والدین کے کاندھوں پر سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو محض مادی آسائشیں فراہم کرنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ ان کے دلوں میں ایمان، تقویٰ اور حیا کی شمع روشن کریں۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ
ترجمہ: "اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔"
(سورۃ التحریم: 6)
تربیتِ اولاد پر والدین کا احتساب
حدیثِ نبوی میں ہر شخص کو اپنے زیرِ اثر افراد کا نگہبان اور جوابدہ ٹھہرایا گیا ہے:
كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَوَلَدِهِ
ترجمہ: "تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت (ماتحتوں) کے بارے میں سوال ہوگا؛ مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور بچوں کی نگہبان ہے۔"
(صحیح بخاری: 7138)
عملی نمونہ بننے کی ضرورت
بچے نصیحت سے زیادہ عمل سے سیکھتے ہیں۔ اگر والدین خود نماز کے پابند، سچے اور بااخلاق ہوں گے تو بچے بھی فطری طور پر انہی اوصاف کو اپنائیں گے۔ خاندانی زندگی میں باہمی محبت، عزت اور اسلامی تربیت ہی معاشرتی فتنوں کا مؤثر ترین سدِ باب ہے۔