KANZUL HIDAYA
FOUNDATION
Login Register
Home Blogs اسلام کا معاشی و فلاحی نظام: زکوٰۃ، صدقات اور معاشرتی عدل
اسلام کا معاشی و فلاحی نظام: زکوٰۃ، صدقات اور معاشرتی عدل
فقہ و فتاویٰ

اسلام کا معاشی و فلاحی نظام: زکوٰۃ، صدقات اور معاشرتی عدل

مولانا مفتی محمد حسنین ازہری
مولانا مفتی محمد حسنین ازہری
4 اکتوبر 2026
2K مشاہدات
1 منٹ مطالعہ

اسلام نے انسانی معاشرے کو دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور طبقاتی کشمکش سے محفوظ رکھنے کے لیے زکوٰۃ اور صدقات کا بے مثال نظام قائم فرمایا۔ زکوٰۃ محض ایک مالی ٹیکس نہیں بلکہ ایک روحانی عبادت اور معاشرتی کفالت کی ضمانت ہے، جو امراء کے دلوں سے بخل و حرص کو مٹاتی ہے اور نادار طبقات کو عزت و خودداری کے ساتھ جینے کا حق دیتی ہے۔

خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ
ترجمہ: "آپ ان کے اموال میں سے صدقہ (زکوٰۃ) وصول کیجیے جس کے ذریعے آپ انہیں پاک اور صاف کر دیں، اور ان کے حق میں دعا کیجیے، بیشک آپ کی دعا ان کے لیے باعثِ تسکین ہے۔"
(سورۃ التوبۃ: 103)

مسلمان جسدِ واحد کی طرح ہیں

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باہمی ہمدردی اور مالی معاونت کے جذبے کو جسمِ انسانی کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ، وَتَرَاحُمِهِمْ، وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى
ترجمہ: "اہلِ ایمان کی باہمی محبت، شفقت اور ہمدردی کی مثال ایک جسم کی مانند ہے؛ جب جسم کے کسی ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم بے خوابی اور بخار میں اس کا ساتھ دیتا ہے۔"
(صحیح مسلم: 2586)

زکوٰۃ کی ادائیگی کے شرعی مصارف

زکوٰۃ نکالتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے کہ وہ انہی افراد تک پہنچے جو قرآنِ کریم میں بیان کردہ آٹھ مصارف کے مستحق ہیں۔ فاؤنڈیشنز اور رفاہی اداروں کو چاہیے کہ وہ زکوٰۃ و صدقات کے فنڈز کو انتہائی دیانت داری اور فقہی بصیرت کے ساتھ صرف حقیقی ضرورت مندوں پر خرچ کریں۔

علم و آگہی کے فروغ کے لیے شیئر فرمائیں:
تمام بلاگز و مضامین کی فہرست