فقہ و فتاویٰ
صحت اور علاج کی شرعی اہمیت: طبِ نبوی اور دورِ حاضر کے طبی اصول
اسلام انسانی جان کے تحفظ اور جسمانی صحت کی حفاظت کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کے بنیادی مقاصد (مقاصدِ شریعہ) میں سے ایک اہم ترین مقصد "حفظِ نفس" یعنی انسانی جان و صحت کی حفاظت ہے۔ بیماری کے وقت دعا کے ساتھ ساتھ دوا اور علاج معالجہ کروانا نہ صرف جائز بلکہ سنتِ نبوی کے عین مطابق ہے۔
وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ
ترجمہ: "اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی (اللہ) مجھے شفا عطا فرماتا ہے۔"
(سورۃ الشعراء: 80)
علاج کروانا سنتِ نبوی ہے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علاج معالجہ کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ دَوَاءً غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ: الْهَرَمُ
ترجمہ: "علاج کرایا کرو، کیونکہ اللہ عزوجل نے کوئی ایسی بیماری پیدا نہیں فرمائی جس کی دوا بھی نہ اتاری ہو، سوائے ایک بیماری کے، اور وہ ہے بڑھاپا۔"
(سنن ابوداؤد: 3855، سنن ترمذی)
غرباء کے لیے طبی سہولیات کا انتظام
مہنگے علاج کے اس دور میں غریب، نادار اور معاشی طور پر کمزور مریضوں کو مفت ادویات اور طبی سہولیات فراہم کرنا اسلام میں اعلیٰ ترین درجے کا صدقہ ہے۔ کینز الہدایہ فری میڈیکل کیمپس کے ذریعے مستحق مریضوں کا مفت علاج اور رہنمائی کر رہی ہے۔