KANZUL HIDAYA
FOUNDATION
Login Register
Home Blogs اللہ تعالی کے ارادہ، رضا اور امر میں فرق
اللہ تعالی  کے ارادہ، رضا اور امر میں فرق
عقائد و کلام

اللہ تعالی کے ارادہ، رضا اور امر میں فرق

محمد عادل حمزہ ازہری
محمد عادل حمزہ ازہری
12 اکتوبر 2026
13 مشاہدات
1 منٹ مطالعہ

    بعض لوگ یہ شبہ پیش کرتے ہیں کہ کائنات میں ہر چیز اللہ تعالیٰ کے ارادے سے ہوتی ہے اور اس کی مشیت کے بغیر کوئی ذرہ بھی حرکت نہیں کر سکتا، لہٰذا جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کو پسند بھی ہے، اسی بنا پر وہ کہتے ہیں کہ اگر حرمِ مکہ میں فلاں امام نماز پڑھا رہا ہے تو اللہ تعالی یہی چاہتا ہے کہ میرے حرم میں وہ امامت کریں، پھر ان وہابیہ کو غلط کیسے کہا جا سکتا ہے؟اسی طرح بعض ملحدین غزہ میں ہونے والے مظالم پر طعن کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ سب اللہ کی مرضی سے ہو رہا ہے۔ 


یہ اعتراض ارادہ، رضا اور امر کے درمیان فرق نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔

اہلِ سنت کے نزدیک کائنات میں ہر چیز کا وقوع اللہ تعالیٰ کے ارادہ و مشیت سے ہوتا ہے، خواہ وہ خیر ہو یا شر۔ لیکن ہر وہ چیز جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہو، ضروری نہیں کہ وہ اس کی رضا (پسند) بھی ہو۔ اسی طرح ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہو، ضروری نہیں کہ اس کے وقوع کا ارادہ کیا ہو، 

مثلاً خانہ کعبہ میں بتوں کا رکھا جانا، اس پر یزیدیوں کا حملہ کرنا، میدان کربلا میں امام حسین کا شہید ہو جانا،  یا وہابیوں کے قبضہ کے بعد ان کا وہاں نمازوں میں امامت کرنا یا غزہ میں ظالم صہیونیوں کا اہل فلسطین کی نسل کشی کرنا وغیرہ  ان سب کا وقوع اللہ تعالی کے ارادے سے ہوا لیکن ان میں اس کی رضا شامل نہیں ہے۔ 

اس فرق کو چار صورتوں میں سمجھا جا سکتا ہے:

اول:ارادہ، رضا اور امر تینوں پائے جائیں:جیسے حضرت ابو بکر صدیق کا ایمان، اللہ تعالیٰ نے ایمان کا حکم بھی دیا، اس سے راضی بھی ہے، اور اپنے ارادے سے اسے واقع بھی فرمایا۔

دوم: صرف ارادہ ہو، رضا اور امر نہ ہوں،جیسے: ابو جہل کا کفر، اس کا وقوع اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہوا، مگر اللہ تعالیٰ نے کفر کا حکم نہیں دیا اور نہ ہی وہ اس سے راضی ہے۔

۳:رضا اور امر ہوں، مگر ارادہ نہ ہو، جیسے: ابو جہل کا ایمان۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان کا حکم دیا، اس کو پسند بھی فرمایا، لیکن اپنی حکمت کے تحت اس کا ارادہ نہیں فرمایا۔ 

۴: ارادہ، رضا اور امر تینوں نہ ہوں، جیسے: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا کفر، نہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا، نہ اسے پسند فرمایا، اور نہ ہی اس کے واقع ہونے کا ارادہ فرمایا۔(حاشیۃ البیجوری علی جوہرۃ التوحید، ص: 124، دار السلام)
لہذا وہابیوں کی لوجِک مانتے ہوئے اگر ارادہ اور رضا میں کوئی فرق نہ مانا جائے، تو لازم آئے گا کہ خانۂ کعبہ میں بتوں کا موجود ہونا بھی (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق تھا، کیونکہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ارادے کے بغیر واقع نہیں ہوا تھا، حالانکہ یہ بات قرآن و سنت اور اجماعِ امت کے خلاف ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ارادے سے واقع ہو، ضروری نہیں کہ اس میں اس کی رضا بھی ہو۔ 

✍️محمد عادل حمزہ ازہری 

۱۶ جولائی ۲۰۲۶ 

علم و آگہی کے فروغ کے لیے شیئر فرمائیں:
تمام بلاگز و مضامین کی فہرست