اللہ تعالی کے ارادہ، رضا اور امر میں فرق
بعض لوگ یہ شبہ پیش کرتے ہیں کہ کائنات میں ہر چیز اللہ تعالیٰ کے ارادے سے ہوتی ہے اور اس کی مشیت کے بغیر کوئی ذرہ بھی حرکت نہیں کر سکتا، لہٰذا جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کو پسند بھی ہے، اسی بنا پر وہ کہتے ہیں کہ اگر حرمِ مکہ میں فلاں امام نماز پڑھا رہا ہے تو اللہ تعالی یہی چاہتا ہے کہ میرے حرم میں وہ امامت کریں، پھر ان وہابیہ کو غلط کیسے کہا جا سکتا ہے؟اسی طرح بعض ملحدین غزہ میں ہونے والے مظالم پر طعن کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ سب اللہ کی مرضی سے ہو رہا ہے۔
یہ اعتراض ارادہ، رضا اور امر کے درمیان فرق نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔
اہلِ سنت کے نزدیک کائنات میں ہر چیز کا وقوع اللہ تعالیٰ کے ارادہ و مشیت سے ہوتا ہے، خواہ وہ خیر ہو یا شر۔ لیکن ہر وہ چیز جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہو، ضروری نہیں کہ وہ اس کی رضا (پسند) بھی ہو۔ اسی طرح ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہو، ضروری نہیں کہ اس کے وقوع کا ارادہ کیا ہو،
مثلاً خانہ کعبہ میں بتوں کا رکھا جانا، اس پر یزیدیوں کا حملہ کرنا، میدان کربلا میں امام حسین کا شہید ہو جانا، یا وہابیوں کے قبضہ کے بعد ان کا وہاں نمازوں میں امامت کرنا یا غزہ میں ظالم صہیونیوں کا اہل فلسطین کی نسل کشی کرنا وغیرہ ان سب کا وقوع اللہ تعالی کے ارادے سے ہوا لیکن ان میں اس کی رضا شامل نہیں ہے۔
اس فرق کو چار صورتوں میں سمجھا جا سکتا ہے:
✍️محمد عادل حمزہ ازہری
۱۶ جولائی ۲۰۲۶