قرآنِ حکیم میں تفکر و تدبر کا اسلوب اور دورِ جدید کے تقاضے
قرآن مجید محض ایک کتابِ تلاوت نہیں بلکہ یہ کائناتِ ہستی کا مکمل منشور اور بنی نوعِ انسان کے لیے ہدایتِ کاملہ ہے۔ کلامِ الٰہی کا ہر لفظ حکمت و معانی کا بحرِ بے کراں ہے۔ قرآن بار بار انسان کو دعوتِ فکر دیتا ہے کہ وہ کائنات کے اسرار و رموز، تاریخ کے نشیب و فراز اور خود اپنے وجود کے اندر پوشیدہ نشانیوں پر غور و خوض کرے۔
قرآن سیکھنے اور سکھانے کی ابدی سعادت
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کو قرآن کے ساتھ گہرا قلبی و عملی تعلق قائم رکھنے کی تاکید فرمائی ہے:
تدبرِ قرآن: فکری جمود کا علاج
آج مسلم معاشرہ جن فکری و سماجی انتشار کا شکار ہے، اس کا بنیادی سبب قرآنِ کریم کے انقلابی پیغام سے دوری ہے۔ جب تک ہم قرآن کو صرف تبرک کی حد تک محدود رکھیں گے اور اس کے اخلاقی، معاشی اور معاشرتی رہنما اصولوں پر تدبر نہیں کریں گے، قوموں کے درمیان باوقار مقام حاصل نہیں کر سکتے۔ قرآنی علوم کے احیاء ہی سے عصرِ حاضر کے چیلنجز کا مقابلہ ممکن ہے۔