KANZUL HIDAYA
FOUNDATION
Login Register
Home Blogs قرآنِ حکیم میں تفکر و تدبر کا اسلوب اور دورِ جدید کے تقاضے
قرآنِ حکیم میں تفکر و تدبر کا اسلوب اور دورِ جدید کے تقاضے
قرآن و تفسیر

قرآنِ حکیم میں تفکر و تدبر کا اسلوب اور دورِ جدید کے تقاضے

علامہ شمس الہدیٰ مصباحی
علامہ شمس الہدیٰ مصباحی
4 اکتوبر 2026
3.2K مشاہدات
1 منٹ مطالعہ

قرآن مجید محض ایک کتابِ تلاوت نہیں بلکہ یہ کائناتِ ہستی کا مکمل منشور اور بنی نوعِ انسان کے لیے ہدایتِ کاملہ ہے۔ کلامِ الٰہی کا ہر لفظ حکمت و معانی کا بحرِ بے کراں ہے۔ قرآن بار بار انسان کو دعوتِ فکر دیتا ہے کہ وہ کائنات کے اسرار و رموز، تاریخ کے نشیب و فراز اور خود اپنے وجود کے اندر پوشیدہ نشانیوں پر غور و خوض کرے۔

كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ
ترجمہ: "یہ ایک برکت والی کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل فرمایا تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔"
(سورۃ ص: 29)

قرآن سیکھنے اور سکھانے کی ابدی سعادت

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کو قرآن کے ساتھ گہرا قلبی و عملی تعلق قائم رکھنے کی تاکید فرمائی ہے:

خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ
ترجمہ: "تم میں سے سب سے بہتر وہ شخص ہے جو خود قرآن سیکھے اور دوسروں کو اس کی تعلیم دے۔"
(صحیح بخاری: 5027)

تدبرِ قرآن: فکری جمود کا علاج

آج مسلم معاشرہ جن فکری و سماجی انتشار کا شکار ہے، اس کا بنیادی سبب قرآنِ کریم کے انقلابی پیغام سے دوری ہے۔ جب تک ہم قرآن کو صرف تبرک کی حد تک محدود رکھیں گے اور اس کے اخلاقی، معاشی اور معاشرتی رہنما اصولوں پر تدبر نہیں کریں گے، قوموں کے درمیان باوقار مقام حاصل نہیں کر سکتے۔ قرآنی علوم کے احیاء ہی سے عصرِ حاضر کے چیلنجز کا مقابلہ ممکن ہے۔

علم و آگہی کے فروغ کے لیے شیئر فرمائیں:
تمام بلاگز و مضامین کی فہرست