KANZUL HIDAYA
FOUNDATION
Login Register
Home Blogs فضائل قدس اور محافظین مسجد اقصی کے لئے بشارت نبوی ۔
فضائل قدس اور محافظین مسجد اقصی کے لئے بشارت نبوی ۔
تاریخ و شخصیات

فضائل قدس اور محافظین مسجد اقصی کے لئے بشارت نبوی ۔

محمد ظفر علی مصباحى
محمد ظفر علی مصباحى
12 اکتوبر 2026
75 مشاہدات
1 منٹ مطالعہ
مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلۂ اول اور خانۂ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔مسجد اقصی حقیقت میں مسلمانوں کی میراث ہے، جو تاریخی اور مذہبی حقائق سے ثابت ہےمسجد اقصی بابرکت زمین میں ہے قرآن مجید میں چار مقامات پر سرزمین شام (Syria) کو بابرکت زمین کہا گیا ہے - نزول قرآن کے وقت ملک شام موجودہ شام(Syria )سے بہت وسیع تھا-موجودہ فلسطین بھی اس کا ایک حصّہ تھا ،مسجد اقصی شام کی اس بابرکت زمین میں واقع ہے- اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
:وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَاؕ: (سورۃ أعراف
ترجمہ: اور ہم نے اس قوم کو جسے دبایا گیا تھا اُس زمین کے مشرقوں اور مغربوں کا مالک بنادیا جس میں ہم نے برکت رکھی تھی
 - اس آیت مبارکہ میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں موجود بنی اسرائیل کی اس عظیم سلطنت کی طرف اشارہ ہے جو کہ اس زمانے کے شام اور اس کے گرد و نواح پر مشتمل تھی - اسی طرح اللہ تعالیٰ ایک دوسرے مقام پر اس عظیم سر زمیں کی فضیلت بیان کرتے ہوے ارشاد فرماتا ہے:
وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ): (سورۃ الانبیاء)
ترجمہ:اور ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نمرود اور ا س کی قوم سے نجات عطا فرمائی اور انہیں عراق سے اس سرزمین کی طرف روانہ کیا جس میں ہم نے جہان والوں کے لیے برکت رکھی ...
اس  آیت مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد اقصی کے ساتھ ساتھ اس کے ارد گرد کی زمین یعنی شام و فلسطیں کا علاقہ بھی بابرکت ہے - اسی طرح دوسرے مقامات پر بھی وارد ہے ۔
یہ آیات مبارکہ مسجد اقصی کی فضیلت پر دلالت کررہی ہیں اور ایک مقام پر صراحت کے ساتھ رب قدیر مسجد اقصی کی فضیلت کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:
سبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَاؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ: (سورۃ بنی اسراءیل)
ترجمہ:پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی جس کے اردگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں ، بیشک وہی سننے والا، دیکھنے والاہے ...
اس آیت مقدسہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر معراج کا ذکر فرمایا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے آیت مقدسہ کے اس حصے سے اَلَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ: جس کے ارد گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں ۔} آیت کے اس حصے میں اللہ تعالیٰ نے مسجد ِاقصیٰ کی شان بیان فرمائی کہ اس کے ارد گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں دینی بھی اور دنیوی بھی ۔ دینی برکتیں یہ کہ وہ سرزمینِ پاک وحی کے اترنے کی جگہ اور انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عبادت گاہ اور ان کی قیام گاہ بنی اور ان کی عبادت کا قبلہ تھی۔ دنیوی برکتیں یہ کہ وہاں قرب و جوار میں نہروں اور درختوں کی کثرت تھی جس سے وہ زمین سرسبز و شاداب ہے اور میووں اور پھلوں کی کثرت سے بہترین عیش و راحت کا مقام ہے ۔ اسی پاکیزہ سر زمیں کو بیت المقدس کہتے ہیں امام ابن جوزی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اسے بیت المقدس اس لیے کہا جاتا ہے یہ سرزمین انبیاء علیہم السلام ارو مسلمانوں کا مسکن بنائی گئی ہے -(فضائل القدس)
حدیث پاک میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عن النَّبِي - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: «لاَ تشد الرحَالُ إِلا إِلَى ثَلاَثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِي هذَا، وَمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ الأَقْصَى :( بخاری شریف)
ترجمہ:
مسجدِ حرام، مسجدِ نبوی اور مسجدِ اقصیٰ کے سوا کسی (اور مسجد ) کی طرف (زیادہ ثواب کے حصول کی نیت سے) رَختِ سفر نہ باندھا جائے ...

۔‘‘ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد اقصی وہ عظیم مسجد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی زیادت ثواب سے مزین فرماتا ہے جو شخص مسجد اقصی کی طرف سفر کرکے آتا ہے اور اس عظیم الشان احاطہ نور میں اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے یعنی (نماز ادا فرماتا ہے) اسی طرح ایک دوسری جگہ بخاری شریف میں آیا ہے

قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلَ ؟ قَالَ : الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ، قَالَ : الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى ، قُلْتُ : كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا ، قَالَ : أَرْبَعُونَ سَنَةً ثُمَّ أَيْنَمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ بَعْدُ فَصَلِّهْ فَإِنَّ الْفَضْلَ فِيهِ .
(بخاری شریف)
ترجمہ:حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سب سے پہلے روئے زمین پر کون سی مسجد بنائی گئ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد حرام۔(بیت اللہ)انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے عرض کیا اور اس کے بعد؟ فرمایا کہ مسجد اقصیٰ ( بیت المقدس ) میں نے عرض کیا، ان دونوں کی تعمیر کے درمیان کتنا فاصلہ رہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چالیس سال۔ پھر فرمایا جہاں بھی تمہیں نماز کا وقت آجائے نماز پڑھ لو۔کیونکہ اسی میں فضیلت ہے ...
 ۔ یہ حدیث بھی بیت المقدس کی فضیلت واہمیت پر دلالت کررہی ہے اور کیوں نہ ہو افضل اس کا تذکرہ قرآن و احادیث میں متعدد مقامات پر آیا ہے اور یہ مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے اور اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مقام پر انبیاء علیہم السلام کی امامت فرمائی - یہ تمام تر روایات بیت المقدس کی فضیلت کے متعلق تھی ؛
محترم قارئین!اب ہم کچھ باتیں محافظین بیت المقدس کے متعلق ذکر کررہے ہیں اہل فلسطین یا جو بھی بیت المقدس کی حفاظت کے لے اپنی قربانیوں کو پیش کررہے ہیں یہ ان کے لے بڑی خوش بختی کی بات ہے اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم محافظین بیت المقدس کے لے ارشاد فرماتے ہیں :
لا تزاُل عصابةٌ من أمَّتي يُقاتِلونَ على أبوابِ دِمَشْقَ وما حولَه وعلى أبوابِ بيتِ المقدسِ وما حولَه لا يضرُّهم خِذلانُ مَن خذَلهم ظاهِرينَ على الحقِّ إلى أن تقومَ السَّاعةُ: (مسند ابی یعلی حدیث نمبر 6417
ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ میری امت کا ایک گروہ ملک شام (Syria) کے دروازے پر اور اس کے اردگرد , اور بیت المقدس کے دروازے پر اور اس کے اردگرد, جہاد کرتا رہے گا ؛ انکی مدد نہ کرنے والوں کا انہیں بے یارومددگار چھوڑ دینا انہیں کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا؛ وہ قیامت تک حق پر قائم رہیں گے...
- اس حدیث میں اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم محافظین بیت المقدس کے لے بشارت دیتے ہیں کہ کبھی بھی وہ رسوہ نہیں ہونگے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ شہید نہیں ہونگے بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ کبھی بھی حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ہمیشہ وہ اپنے موقف پر قائم رہیں گے-اللہ تعالیٰ انہیں اس کا اجر دنیا میں عطا فرمائے گا اور آخرت میں اللہ انکے درجات کو بلند کرے گا--
یہ محافظین بیت المقدس کے بشارت نبوی ہے کہ ظالمین کچھ بھی کرلے مگر وہ کبھی بھی رسوا نہیں ہونگے ،اور کیا بھی، ظالموں نے انتہا پسندی کی حدوں کو پار کردیا جبر و تشدد کے پہاڑ توڑے اس کے باوجود محافظین اپنے موقف پر قائم ہیں اور قیامت تک قائم رہیں گے - 

اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ بیت المقدس کی حفاظت فرمائے اور محافظین بیت المقدس کو ظالموں پر غلبہ عطا فرمائے.
 آمين بجاه سيد المرسلين عليه الصلاة والتسليم
علم و آگہی کے فروغ کے لیے شیئر فرمائیں:
تمام بلاگز و مضامین کی فہرست