عصری مسائل و رہنمائی
جدید ڈیجیٹل دور میں مسلم نوجوانوں کے فکری و تعلیمی چیلنجز
اکیسویں صدی کا جدید ڈیجیٹل اور معلوماتی انقلاب جہاں بے پناہ سہولیات اور مواقع لے کر آیا ہے، وہیں مسلم نوجوانوں کے لیے سنگین فکری، نظریاتی اور اخلاقی چیلنجز بھی پیدا کر چکا ہے۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے دور میں تشکیک، لادینیت اور غیر اسلامی افکار کی یلغار سے نئی نسل کو بچانا دورِ حاضر کا سب سے بڑا جہاد ہے۔
ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ
ترجمہ: "اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ دعوت دیجیے، اور ان سے ایسے طریقے سے بحث کیجیے جو سب سے بہتر ہو۔"
(سورۃ النحل: 125)
جدید علوم پر مومن کا استحقاق
اسلام نے علم اور ٹیکنالوجی کی مخالفت نہیں کی بلکہ اسے مثبت، تعمیری اور مفید مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی تلقین فرمائی ہے:
الْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ، فَحَيْثُ وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا
ترجمہ: "حکمت اور دانائی کی بات مومن کی گمشدہ میراث ہے، وہ اسے جہاں بھی پائے، وہی اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔"
(جامع ترمذی: 2687)
وقت کا صحیح استعمال اور مثبت ڈیجیٹل سرگرمیاں
نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ انٹرنیٹ اور سوشل پلیٹ فارمز کو صرف تفریح کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ اسے اسلامی اقدار کے فروغ، علمی استعداد میں اضافے اور پروفیشنل صلاحیتوں کی نشوونما کے لیے استعمال کریں۔ کینز الہدایہ ووکیشنل لیب اسی مشن کے تحت نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتیں سکھا رہی ہے۔